تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

کاٹن ایئر 2025-26: پیداوار ہدف سے 45 فیصد کم

کاٹن ایئر 2025-26: پیداوار ہدف سے 45 فیصد کم

کاٹن ایئر 2025-26: پیداوار ہدف سے 45 فیصد کم

کراچی(کامرس ڈیسک) ملک میں کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران کپاس کی مجموعی پیداوار 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 56 لاکھ 7 ہزار گانٹھ رہی، تاہم یہ مقررہ ہدف سے 45 لاکھ 93 ہزار بیلز (تقریباً 45 فیصد) کم ہے۔پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں پیداواری ہدف تقریباً 17 فیصد کم ہونے کے باوجود وہاں پنجاب کے مقابلے میں تقریباً 7.6 فیصد زائد رہی۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر نے کاٹن ایئر 2025-26 کے لیے ملکی مجموعی پیداواری ہدف ایک کروڑ 2 لاکھ گانٹھ مقرر کیا تھا، جس میں پنجاب کے لیے 55 لاکھ 53 ہزار اور سندھ و بلوچستان کے لیے 46 لاکھ 27 ہزار گانٹھ شامل تھے۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی حتمی رپورٹ کے مطابق اس سال مجموعی پیداوار 56 لاکھ 7 ہزار گانٹھ رہی، جو ہدف کے مقابلے میں 45 فیصد کم ہے۔ پنجاب میں پیداوار 26 لاکھ 93 ہزار بیلز رہی، جو ہدف کے مقابلے 51.5 فیصد کم ہے، جبکہ سندھ و بلوچستان میں 29 لاکھ 15 ہزار گانٹھ پیدا ہوئے، جو ہدف سے 37 فیصد کم ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 51 لاکھ 88 ہزار گانٹھ روئی خریدی، جبکہ برآمدکنندگان نے ایک لاکھ 78 ہزار گانٹھیں خریدیں۔