تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

سوڈان میں ڈرون حملہ، بچوں سمیت 24 افراد ہلاک

سوڈان میں ڈرون حملہ، بچوں سمیت 24 افراد ہلاک

خرطوم( مانیٹرنگ ڈیسک)وسطی سوڈان میں انسانی المیے میں مزید اضافہ ہو گیا، جہاں ورلڈ فوڈ پروگرام کے امدادی قافلے پر حملے کے ایک روز بعد بے گھر خاندانوں کو لے جانے والی ایک گاڑی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 8 بچے بھی شامل ہیں۔سوڈان میں جنگی صورتحال پر نظر رکھنے والے سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق یہ حملہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے شمالی کردفان ریاست کے شہر الراھد کے قریب کیا گیا۔ متاثرہ گاڑی ان افراد کو لے جا رہی تھی جو ڈبیکر کے علاقے میں جاری جھڑپوں کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔ڈاکٹرز نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں علاج کے لیے الراھد کے ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم یہ ہسپتال کردفان کے دیگر علاقوں کی طرح شدید طبی سہولیات اور ادویات کی کمی کا شکار ہے۔نیٹ ورک نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہری آبادی کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں اور ان مبینہ خلاف ورزیوں پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی قیادت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ یہ فورسز گزشتہ تقریباً تین برس سے ملک کے کنٹرول کے لیے سوڈانی فوج کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔یاد رہے کہ سوڈان اپریل 2023 میں شدید بدامنی کا شکار ہوا، جب سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے خرطوم سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مکمل جنگ کی صورت اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔