ریا ض( کامرس ڈیسک)سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد خام تیل کی ترسیل عارضی طور پر روک دی گئی، جس سے عالمی تیل کی فراہمی کا 5 فیصد تک متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔عرب میڈیا کی خصوصی رپورٹ کے مطابق تقریباً 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے ذخائر کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔اس ذریعے سے سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل خام تیل مغربی ساحل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن ڈرون حملوں سے متاثر ہوئی جبکہ بعض افراد زخمی بھی ہوئے، جس کے بعد احتیاطی طور پر ترسیل کا عمل روک دیا گیا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے عراق کے جنوب مشرقی صوبے میسان سے کیے گئے، جو ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے اور ماضی میں وہاں ایران نواز مسلح گروپوں کی موجودگی رہی ہے۔پائپ لائن کی اہمیترپورٹ کے مطابق مشرقی تیل کے میدانوں سے ینبع تک خام تیل پہنچانے والی پائپ لائن 1981ء میں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی زیادہ سے زیادہ یومیہ ترسیلی صلاحیت 70 لاکھ بیرل ہے۔حالیہ مہینوں میں بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں کے باعث اس راستے سے تیل کی ترسیل میں کمی آئی۔ اگست میں پائپ لائن کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل منتقل ہوا، جو جنوری کے بعد کم ترین ماہانہ سطح تھی۔عرب میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب نے ابتدائی 5 ماہ میں مغربی راستے سے تیل کی ترسیل بڑھا کر تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل یومیہ کردی تھی، جو عالمی تیل کی مجموعی فراہمی کے تقریباً 4 سے 5 فیصد کے برابر ہے