استنبول( مانیٹرنگ ڈیسک) ترکیہ نے بحیرہ اسود میں دو تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات عالمی بحری تجارت اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ترک وزارت خارجہ کے مطابق دونوں جہاز روسی بندرگاہ نووروسیسک سے روانگی کے بعد بحیرہ اسود میں ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ترک حکام نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارہا انتباہ کے باوجود شہری جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے، جو عالمی تجارت اور خوراک کی فراہمی کے نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ترکیہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہ اسود میں بحری راستوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔رپورٹس کے مطابق حملوں کا شکار ہونے والے دونوں جہاز یاسر اور نادیزہدا تھے، جو بالترتیب پاناما اور کیمرون کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان کی ملکیت ترک کمپنیوں کے پاس ہے۔دوسری جانب بحیرہ اسود میں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔رپورٹس کے مطابق جون کے آخر میں کریمیا کے قریب ایک ترک ماہی گیر کشتی پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے، جبکہ مئی کے اختتام پر ایک ترک کارگو جہاز بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنا تھا۔ادھر روس کے زیر قبضہ کریمیا کے شہر سیواستوپول میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک فوجی سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔ مقامی حکام کے مطابق ایک فوجی نے پہلے اپنے ساتھی کو گولی ماری اور بعد ازاں تین شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔