کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) 2026 کے شدید ایل نینو سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی کے باعث آئندہ تقریباً 6 ماہ کے دوران دنیا بھر میں 4 لاکھ 51 ہزار کے قریب اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ اندازہ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی ایک تازہ تحقیق میں پیش کیا گیا ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندری پانی کے درجہ حرارت معمول سے بڑھ جانے کا موسمی رجحان ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں کے موسم پر پڑتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق موجودہ ایل نینو غیر معمولی شدت اختیار کرسکتا ہے اور 2026 کے اختتام تک عروج پر پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید گرمی، ہیٹ ویوز، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی جیسے اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق شدید گرمی بالخصوص بزرگوں، دل اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد اور طویل وقت تک کھلے ماحول میں کام کرنے والوں کیلئے صحت کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔تحقیق میں مختلف ممالک پر ممکنہ اثرات کا اندازہ بھی لگایا گیا ہے، جس کے مطابق صرف انڈونیشیا میں تقریباً 19 ہزار 300 اضافی اموات ہوسکتی ہیں۔تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک ماڈل پر مبنی تخمینہ ہے، حتمی تعداد نہیں۔ بروقت گرمی سے بچاؤ کے اقدامات، موسمی انتباہات، ٹھنڈک کی سہولیات اور طبی خدمات کی دستیابی سے ممکنہ اموات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔