تازہ ترین
23 سال بعد پاکستانی صدر کا جرمنی کا دورہ، آصف زرداری کو گارڈ آف آنر پیش پاکستان سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل تیار ہے، دہشت گردی افغانستان سے آرہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ اسلام آباد میں مین ہیٹن طرز کا منصوبہ بنانے کا اعلان، سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت فورسز کے ساتھ مخلصانہ طور پر کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی: رانا ثنا اللہ ٹرمپ کا ایران پر جلد دوبارہ حملے کا اشارہ، مزید کارروائی کا امکان ظاہر کردیا ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا پر طنز، اسرائیل سے تعلقات کو ’طفیلی‘ قرار دے دیا سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فضا میں تباہ کردیے گئے یورپی یونین کے فنڈز میں مبینہ فراڈ، لیتھوانیا میں 12 افراد پر فردِ جرم عائد ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد ہوگئی پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی آغاز، 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی پیٹرول پمپ مالکان کے ڈیلی پرائس میکانزم پر تحفظات، وفاقی وزیر سے ملاقات کا مطالبہ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا اور چاندی سستے، فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار روپے کمی پرائیویسی خدشات پر میٹا نے اے آئی ایجنٹ میوز کا چیٹ شیئرنگ فیچر معطل کردیا یوٹیوب موبائل ایپ میں بڑی تبدیلیاں، کسٹم فیڈز کا نیا فیچر متعارف اے آئی ہیکرز سے تحفظ کے پانچ مؤثر طریقے، ماہرین کی اہم تجاویز مشہور گیم اسٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو 30 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
پاکستان خبر

ایل نینو کی گرمی، ساڑھے 4 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

ایل نینو کی گرمی، ساڑھے 4 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

 کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) 2026 کے شدید ایل نینو سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی کے باعث آئندہ تقریباً 6 ماہ کے دوران دنیا بھر میں 4 لاکھ 51 ہزار کے قریب اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ اندازہ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی ایک تازہ تحقیق میں پیش کیا گیا ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندری پانی کے درجہ حرارت معمول سے بڑھ جانے کا موسمی رجحان ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں کے موسم پر پڑتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق موجودہ ایل نینو غیر معمولی شدت اختیار کرسکتا ہے اور 2026 کے اختتام تک عروج پر پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید گرمی، ہیٹ ویوز، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی جیسے اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق شدید گرمی بالخصوص بزرگوں، دل اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد اور طویل وقت تک کھلے ماحول میں کام کرنے والوں کیلئے صحت کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔تحقیق میں مختلف ممالک پر ممکنہ اثرات کا اندازہ بھی لگایا گیا ہے، جس کے مطابق صرف انڈونیشیا میں تقریباً 19 ہزار 300 اضافی اموات ہوسکتی ہیں۔تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک ماڈل پر مبنی تخمینہ ہے، حتمی تعداد نہیں۔ بروقت گرمی سے بچاؤ کے اقدامات، موسمی انتباہات، ٹھنڈک کی سہولیات اور طبی خدمات کی دستیابی سے ممکنہ اموات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔