تازہ ترین
میدویدیف تماشائی کو گیند لگنے پر نااہل،بیجنگ اوپن ورلڈکپ 2027: پاکستان، بھارت سمیت 10 ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کرگئیں سلمان آغا کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی ختم، ٹیم سے بھی باہر ہوگئے حیدرآباد کا نیاز اسٹیڈیم 20 سال کیلئے پی سی بی کے حوالے وزیراعظم کی سردیوں میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا جامع منصوبہ بنانے کی ہدایت ایل این جی فراہمی میں خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ آئی ایم ایف کا صوبائی صحت، تعلیم اخراجات کا ہدف کم کرنے پر غور پاکستان کی 16 ممالک میں گوشت برآمد کرنے کی بنیاد قائم ہوگئی نائجیریا میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، 32 افراد جاں بحق آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک برطانوی اڈے سے بی ون بمبار طیارے واپس بلا لیے گئے، وینس سرخی: ایران کی خلیجی ممالک کو خبردار، سرزمین حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں حکومت اور اپوزیشن میں 24 گھنٹوں میں مذاکرات کی امید، فواد چودھری اپنی چھت اپنا گھر، عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے پر جواب خیبرپختونخوا کی صورتحال، صدر اور وزیراعظم میں آج اہم مشاورت پرائیویٹ استاد
پاکستان خبر

ایل نینو کی گرمی، ساڑھے 4 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

ایل نینو کی گرمی، ساڑھے 4 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

 کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) 2026 کے شدید ایل نینو سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی کے باعث آئندہ تقریباً 6 ماہ کے دوران دنیا بھر میں 4 لاکھ 51 ہزار کے قریب اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ اندازہ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی ایک تازہ تحقیق میں پیش کیا گیا ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندری پانی کے درجہ حرارت معمول سے بڑھ جانے کا موسمی رجحان ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں کے موسم پر پڑتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق موجودہ ایل نینو غیر معمولی شدت اختیار کرسکتا ہے اور 2026 کے اختتام تک عروج پر پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید گرمی، ہیٹ ویوز، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی جیسے اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق شدید گرمی بالخصوص بزرگوں، دل اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد اور طویل وقت تک کھلے ماحول میں کام کرنے والوں کیلئے صحت کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔تحقیق میں مختلف ممالک پر ممکنہ اثرات کا اندازہ بھی لگایا گیا ہے، جس کے مطابق صرف انڈونیشیا میں تقریباً 19 ہزار 300 اضافی اموات ہوسکتی ہیں۔تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک ماڈل پر مبنی تخمینہ ہے، حتمی تعداد نہیں۔ بروقت گرمی سے بچاؤ کے اقدامات، موسمی انتباہات، ٹھنڈک کی سہولیات اور طبی خدمات کی دستیابی سے ممکنہ اموات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔