کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے رازداری سے متعلق خدشات سامنے آنے کے بعد اپنے مصنوعی ذہانت کے معاون ایجنٹ ’میوز‘ میں چیٹس شیئر کرنے کا فیچر عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔سائبر سیکیورٹی محققین نے خبردار کیا تھا کہ شیئر کی گئی گفتگو کے لنکس عوامی انٹرنیٹ ریکارڈز کے ذریعے تلاش کیے جا سکتے ہیں، جس سے صارفین کی حساس ذاتی اور کاروباری معلومات غیر متعلقہ افراد تک پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔رپورٹ کے مطابق سائبر سیکیورٹی فرم کلاروک کے محققین نے غیر فعال ڈی این ایس ریکارڈز کی مدد سے 6 ہزار 800 سے زائد شیئر کیے گئے لنکس کی نشان دہی کی۔ ڈی این ایس ریکارڈز ڈومین ناموں سے متعلق سرگرمیوں کا سراغ لگانے میں مدد دیتے ہیں اور ان کے ذریعے بعض ویب ایڈریسز کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ان لنکس کے ذریعے کئی سو چیٹس تک رسائی حاصل کی گئی، جن میں کمپنیوں کی آمدنی سے متعلق جائزے، قرض کی درخواستیں، بینک فراڈ کے انتباہات، اکاؤنٹس کی جزوی تفصیلات اور ملازمت کے انٹرویوز سے متعلق خفیہ نوٹس شامل تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس مسئلے کا تعلق میوز کے یو آر ایل ڈیزائن سے تھا، جس میں گفتگو کے عنوانات اور اتفاقی طور پر تیار کیے گئے شناختی کوڈ شامل ہوتے تھے۔ جب ان لنکس تک رسائی حاصل کی جاتی تو ان کے ویب ایڈریس عوامی ڈیٹا بیسز میں محفوظ ہو سکتے تھے، جس کے باعث دوسرے افراد بھی انہیں تلاش کر سکتے تھے، چاہے یہ لنکس انہیں براہِ راست نہ بھیجے گئے ہوں۔محققین کے مطابق ان لنکس کے ذریعے گفتگو دیکھنے کے لیے میٹا اکاؤنٹ میں سائن اِن کرنا بھی ضروری نہیں تھا، جس سے نجی معلومات کے افشا ہونے کا خدشہ مزید بڑھ گیا۔اس انکشاف کے بعد میٹا نے چیٹ شیئرنگ کا فیچر معطل کردیا۔ یہ واقعہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز میں ڈیٹا کے تحفظ اور صارفین کی رازداری سے متعلق اہم سوالات کو اجاگر کرتا ہے، خصوصاً اس وقت جب گفتگو میں مالی، ذاتی یا کاروباری نوعیت کی حساس معلومات شامل ہوں۔
پرائیویسی خدشات پر میٹا نے اے آئی ایجنٹ میوز کا چیٹ شیئرنگ فیچر معطل کردیا
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی