تازہ ترین
23 سال بعد پاکستانی صدر کا جرمنی کا دورہ، آصف زرداری کو گارڈ آف آنر پیش پاکستان سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل تیار ہے، دہشت گردی افغانستان سے آرہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ اسلام آباد میں مین ہیٹن طرز کا منصوبہ بنانے کا اعلان، سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت فورسز کے ساتھ مخلصانہ طور پر کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی: رانا ثنا اللہ ٹرمپ کا ایران پر جلد دوبارہ حملے کا اشارہ، مزید کارروائی کا امکان ظاہر کردیا ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا پر طنز، اسرائیل سے تعلقات کو ’طفیلی‘ قرار دے دیا سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فضا میں تباہ کردیے گئے یورپی یونین کے فنڈز میں مبینہ فراڈ، لیتھوانیا میں 12 افراد پر فردِ جرم عائد ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد ہوگئی پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی آغاز، 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی پیٹرول پمپ مالکان کے ڈیلی پرائس میکانزم پر تحفظات، وفاقی وزیر سے ملاقات کا مطالبہ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا اور چاندی سستے، فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار روپے کمی پرائیویسی خدشات پر میٹا نے اے آئی ایجنٹ میوز کا چیٹ شیئرنگ فیچر معطل کردیا یوٹیوب موبائل ایپ میں بڑی تبدیلیاں، کسٹم فیڈز کا نیا فیچر متعارف اے آئی ہیکرز سے تحفظ کے پانچ مؤثر طریقے، ماہرین کی اہم تجاویز مشہور گیم اسٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو 30 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
پاکستان خبر

ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا پر طنز، اسرائیل سے تعلقات کو ’طفیلی‘ قرار دے دیا

ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا پر طنز، اسرائیل سے تعلقات کو ’طفیلی‘ قرار دے دیا

تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں باہمی فائدے کے بجائے ’طفیلی تعلق‘ قرار دے دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام پر امریکی ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکا نے خود اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز بھی استعمال کیے ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ یہ صورت حال امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری قرار دینے کے بجائے ایک ’طفیلی تعلق‘ ظاہر کرتی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور دفاعی اخراجات کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔