کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ برقی گاڑیوں میں پہیوں اور ٹائروں سے متعلق خرابیوں کا امکان پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.8 گنا زیادہ ہوتا ہے۔برٹش وہیکل رینٹل اینڈ لیزنگ ایسوسی ایشن کی تحقیق میں برطانیہ میں ہونے والے 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے معائنے کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق کے مطابق برقی گاڑیوں کی بھاری بیٹریاں اور برقی موٹر کا فوری ٹارک ٹائروں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ بعض برقی گاڑیوں کی بیٹری کا وزن 299 سے 499 کلوگرام تک ہوتا ہے، جو گاڑی کے مجموعی وزن کا 25 فیصد تک بنتا ہے۔رپورٹ کے مطابق برقی موٹر رفتار بڑھاتے وقت فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کرتی ہے، جس سے ٹائروں پر اضافی قوت پڑتی ہے اور ان کے تیزی سے گھسنے یا خراب ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔تحقیق میں پرانے ماڈلز میں ٹائروں کے مسائل زیادہ نمایاں ہونے کی نشاندہی کی گئی، جبکہ بعض گاڑیوں میں رگڑ سے کام کرنے والے بریکس کی خرابیاں بھی سامنے آئیں۔ایسوسی ایشن کے مطابق برقی گاڑیوں کے بعض مالکان کو اضافی مرمت اور ٹائر تبدیل کرنے کے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ مہنگے یا اعلیٰ معیار کے ٹائروں کی تبدیلی پر سینکڑوں پاؤنڈز خرچ ہوسکتے ہیں۔