نیویارک( ویب ڈیسک) ٹیسلا اور اسپیس ایکس سے وابستہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے بتایا ہے کہ وہ کئی برس قبل ہی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور اس کی حفاظت سے متعلق خدشات پر غور کر رہے تھے۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایلون مسک نے بتایا کہ انہوں نے نک بوسٹروم کی 2014 میں شائع ہونے والی کتاب ’سوپر انٹیلی جنس‘ میں تعاون کیا تھا، جبکہ مصنف نے کتاب کے پیش لفظ میں ان کا نام بھی شامل کیا تھا۔ایلون مسک کے مطابق وہ 2014 سے بھی پہلے مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے معاملے پر غور کررہے تھے۔ انہوں نے تقریباً 12 سال پرانی اپنی ایک پوسٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے لوگوں کو بوسٹروم کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنے کی تلقین کی تھی۔انہوں نے اس وقت مصنوعی ذہانت کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا تھا۔ایلون مسک کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تیز رفتار ترقی کو محدود کرنے اور حفاظتی اقدامات میں اضافے پر زور دیا ہے۔
ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت کے خطرات پر کئی سال پرانی تشویش کا انکشاف
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی