تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

انگلینڈ میں شکست، قومی اسکواڈ سے 7 کھلاڑی باہر

انگلینڈ میں شکست، قومی اسکواڈ سے 7 کھلاڑی باہر

لاہور ( سپورٹس ڈیسک)انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد سیریز کے دوران اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے 7 کھلاڑیوں کو باہر کردیا گیا۔حیران کن امر یہ ہے کہ خارج کیے گئے کھلاڑیوں میں ایسے کرکٹرز بھی شامل ہیں جو دونوں ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کی ابتدائی گیارہ رکنی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس اقدام کو سابق کرکٹرز کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔2011 کے عالمی کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچانے والے سابق کپتان شاہد آفریدی نے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام کی منطق سمجھ نہیں آئی، جبکہ نئے متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی ان کی سمجھ سے باہر ہے۔شاہد آفریدی نے سوال کیا کہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے بیس اوورز کی کرکٹ کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنا کس نوعیت کی حکمت عملی ہے؟ انہوں نے اس طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھایا۔سابق کپتان نے یہ بھی پوچھا کہ صرف 5 ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو عہدے سے کیوں ہٹا دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اتنے تجربہ کار انتخاب کنندگان پر مشتمل انتخابی کمیٹی کی جانب سے یہ اب تک کا سب سے حیران کن فیصلہ ہے۔