تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

مخالفت کے بعد فیفا نے نجی سرمایہ کاری منصوبہ واپس لے لیا

مخالفت کے بعد فیفا نے نجی سرمایہ کاری منصوبہ واپس لے لیا

زیورخ( سپورٹس ڈیسک)فیفا نے عالمی سطح پر ہونے والی شدید مخالفت کے بعد ورلڈ کپ سمیت بڑے فٹبال ٹورنامنٹس میں نجی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا متنازع منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ اس تجویز کے باعث فٹبال برادری میں اختلافات پیدا ہوئے، اس لیے اسے جاری رکھنا کھیل کے مفاد میں نہیں۔منصوبے کے تحت فیفا کی 211 رکن فٹبال ایسوسی ایشنز کو حمایت کے بدلے 4 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا، ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) اور کونکاکاف نے اس کی مخالفت کی۔یوئیفا نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ منصوبہ نافذ کیا گیا تو اس کے رکن ممالک ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔فیفا کے سینئر مشیر کارلوس کورڈیرو نے بھی اس منصوبے کو فٹبال کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جبکہ چیف آپریٹنگ آفیسر کیون لامور نے اعتراف کیا کہ فیفا انتظامیہ کو بھی اس معاملے پر درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔شدید دباؤ کے بعد جیانی انفانٹینو نے کہا کہ وہ تمام متعلقہ فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں تاکہ باہمی مشاورت سے فٹبال کے مستقبل سے متعلق فیصلے کیے جا سکیں۔ آئندہ سال ہونے والے فیفا صدارتی انتخابات سے قبل اس معاملے پر ان پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔