اسلام آباد( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فاؤنڈرز کاربن نیٹ ورک کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کرنے والے نیدرلینڈز کے کاروباری اور سرمایہ کار وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، جس میں سرمایہ کاری کے مواقع اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کے ہمراہ پاکستان میں نیدرلینڈز کے سفیر رابرٹ جان سیگرٹ بھی موجود تھے۔ ظہرانے میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری تجارت اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے پاکستان میں دلچسپی لینے پر شرکا کو سراہا اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط، باہمی افہام و تفہیم اور اقتصادی تعاون مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان مسلسل رابطوں سے قابل عمل سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی، مشترکہ منصوبوں کے فروغ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے ثمرات کو پیداواری سرمایہ کاری، سرمائے میں اضافے، برآمدات کے فروغ اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق ترقی کے اگلے مرحلے میں برآمدات بڑھانے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی، جس کے لیے مسلسل ساختی اصلاحات اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اہم اقتصادی ترجیحات میں معاشی استحکام برقرار رکھنا، مالیاتی اور بیرونی شعبوں کو مضبوط بنانا، پائیدار اور جامع ترقی، ساختی اصلاحات، امداد پر انحصار کم کرکے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، زراعت اور رہائش کے شعبوں میں مالی سہولتوں کی فراہمی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ شامل ہیں۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنا اور بیرونی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں ملکی معیشت کو مضبوط بنانا سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کے دو اہم چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے نمٹنے کے لیے مسلسل پالیسی توجہ اور مربوط اصلاحات درکار ہیں۔پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان تعاون کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز کی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری نجی سرمایہ متحرک کرنے، مہارت سے فائدہ اٹھانے اور سرمایہ کاری کے امکانات کو قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے نجکاری اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، سرمایہ کاری راغب کرنا اور تجارتی سرگرمیوں میں نجی شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے معاشی استحکام، بیرونی شعبے کی مضبوطی اور مالیاتی اصلاحات کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے تجارتی سہولت کاری بورڈ کے کردار کو بھی اہم قرار دیا، جو تجارتی رکاوٹیں دور کرنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے میں معاون ہے۔نیدرلینڈز کے کاروباری وفد نے پاکستان میں کاروباری ماحول اور دوطرفہ تعاون کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ملاقات میں مشترکہ مفادات کے شعبوں کی نشاندہی، کاروباری روابط مضبوط بنانے اور قابل عمل شراکت داریوں کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط کو سرمایہ کاری، تجارت اور طویل مدتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں مشترکہ دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ حکومت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور ملکی معاشی ترقی میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
وزیر خزانہ کی نیدرلینڈز کے کاروباری وفد سے ملاقات، سرمایہ کاری بڑھانے پر گفتگو
واپس خبروں پر
Category:
کامرس