گوادر( ویب ڈیسک)بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی کے قریب گنز میں ماہی گیروں نے مچھلی پکڑنے کے جال میں پھنسنے والے زیتونی نسل کے دو نایاب سمندری کچھوؤں کو بحفاظت آزاد کردیا۔ اس واقعے نے سمندر میں چھوڑ دیے جانے والے ناکارہ جالوں سے آبی حیات کو لاحق خطرات کی جانب دوبارہ توجہ مبذول کرادی ہے۔ماہی گیروں نے نائیلون کے مضبوط جال میں الجھے کچھوؤں کو نکال کر سمندر میں چھوڑ دیا، جس کے بعد دونوں جانور لہروں کے ساتھ تیرتے ہوئے گہرے پانیوں کی جانب روانہ ہوگئے۔عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق گنز کے مقام پر پیش آنے والا یہ واقعہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران زیتونی نسل کے سمندری کچھوؤں کے جال میں پھنسنے کا 37واں رپورٹ شدہ واقعہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ایسے 36 واقعات سامنے آچکے ہیں، جن میں مختلف مواقع پر ایک یا دو، جبکہ بعض واقعات میں بیک وقت چار سمندری کچھوے مچھلی پکڑنے کے جالوں میں پھنسے ہوئے پائے گئے۔ماہرین کے مطابق سمندر میں چھوڑ دیے جانے والے ناکارہ جال سمندری حیات کے لیے سنگین خطرہ ہیں، کیونکہ ان میں پھنسنے والے جانور زخمی ہونے یا دم گھٹنے کے باعث ہلاک بھی ہوسکتے ہیں۔
جیوانی کے ساحل پر ماہی گیروں نے دو نایاب سمندری کچھوے بچا لیے، 15 برس میں 37واں واقعہ
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی