تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

چوتھے جائزہ مذاکرات، آئی ایم ایف کا اسٹیٹ بینک کی بریفنگ پر اطمینان

چوتھے جائزہ مذاکرات، آئی ایم ایف کا اسٹیٹ بینک کی بریفنگ پر اطمینان

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن نے پاکستان کے ساتھ چوتھے جائزہ مذاکرات کے سلسلے میں اسٹیٹ بینک حکام کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن باقاعدہ مذاکرات کیلئے آج کراچی سے اسلام آباد پہنچے گا، جبکہ معاشی ٹیم کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن گزشتہ 3 روز سے کراچی میں موجود تھا، جہاں اس کی اسٹیٹ بینک حکام اور سندھ حکومت سے بات چیت ہوئی۔سندھ حکومت نے وفاق کو سرپلس بجٹ فراہم کرنے سے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ 30 جون تک صوبے کی ٹیکس آمدنی 593 ارب روپے رہی، جبکہ نان ٹیکس آمدنی دگنی ہوکر 80 ارب روپے سے تجاوز کرگئی۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک حکام نے آئی ایم ایف مشن کو ملکی معاشی کارکردگی، زرمبادلہ ذخائر، مانیٹری پالیسی، درآمدات اور فارن ایکسچینج سے متعلق بریفنگ دی، جس پر مشن نے اطمینان کا اظہار کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد رکھنے کا ہدف حاصل کرلیا گیا ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے سے متعلق بھی مشن کو آگاہ کیا گیا۔