تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی سب سے آگے، غیر حتمی نتائج میں بڑی پیش رفت

گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی سب سے آگے، غیر حتمی نتائج میں بڑی پیش رفت

گلگت(پاکستان خبر)گلگت بلتستان میں اسمبلی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مجموعی طور پر سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی نمایاں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔اب تک موصول ہونے والے 24 میں سے 19 حلقوں کے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 9 نشستیں حاصل کی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے حصے میں ایک نشست آئی ہے۔ اس کے علاوہ 6 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔حلقہ وار نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار مختلف اہم حلقوں میں کامیاب ہوئے جن میں گلگت، اسکردو، نگر اور شگر کے متعدد حلقے شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی بعض حلقوں میں برتری حاصل کی ہے، جبکہ کئی نشستوں پر آزاد امیدواروں نے مضبوط مقابلے کے بعد کامیابی سمیٹی ہے۔کچھ حلقوں میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جہاں معمولی ووٹوں کے فرق سے امیدوار آگے یا پیچھے رہے۔ کئی نشستوں پر نتائج ابھی مکمل نہیں ہوئے، تاہم ابتدائی رجحانات کے مطابق پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے۔مجموعی طور پر نتائج کے مطابق کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی، جس کے باعث آئندہ حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا امکان بڑھ گیا ہے۔