ممبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں اور مبینہ ریاستی کارروائیوں کے باعث انہیں مسلسل اپنی وفاداری ثابت کرنے کی صورت حال کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں ہندوتوا سیاست کے فروغ نے بھارتی مسلمانوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔بھارتی جریدے نیشنل ہیرالڈ کے مطابق مسلمان طالبہ فرح ناز نے بتایا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا اور مسلمان ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹے ایک گاڑی میں بٹھائے رکھا۔ ان کے بقول پولیس اہلکاروں نے انہیں اور دیگر مسلمان مظاہرین کو الگ فہرست میں شامل کرنے کی بات کی اور غدار قرار دیا۔فرح ناز کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی مسلمانوں کو غدار قرار دے کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، مساجد کو نقصان پہنچانے اور انہیں نفرت کا سامنا ہونے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ مضمون میں قائداعظم محمد علی جناح کے اس مؤقف کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مستقبل میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کو وفاداری ثابت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، عالمی رپورٹ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں