کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ’گاڈ فادر آف اے آئی‘ کے نام سے مشہور نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن نے طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی نگرانی اور انہیں قابو میں رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جیفری ہنٹن سمیت تقریباً 400 سائنس دانوں نے اس حوالے سے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت کے باعث پیدا ہونے والے ایسے سائبر سیکیورٹی واقعات کی روک تھام ہے جو حکومتوں اور کاروباری اداروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی متعدد کمپنیوں نے اپنے نظاموں میں سیکیورٹی کی سنگین خامیوں اور ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے۔ان واقعات میں ایک معاملہ ایسا بھی شامل ہے جس میں اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز کا ایک گروہ اپنے آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر سافٹ ویئر پلیٹ فارم ’ہگنگ فیس‘ پر حملہ آور ہوگیا۔کھلے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی تیاری اور اس کے استعمال کے طریقہ کار میں فوری تبدیلیاں نہ کی گئیں تو اس نوعیت کے واقعات مستقبل میں بھی پیش آتے رہیں گے، جبکہ ان کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوسکتے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، کیونکہ یہ نظام پہلے ہی سائبر حملوں اور دیگر سیکیورٹی خطرات کی زد میں ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق طاقتور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس سے وابستہ خطرات کے پیش نظر عالمی سطح پر مؤثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔
’گاڈ فادر آف اے آئی‘ کا طاقتور مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے عالمی ادارے کا مطالبہ
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی