تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا قوم سازی میں اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین امریکی سینیٹر کا ایران سے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے پر زور تبدیلی گالیوں سے نہیں، کام کرکے دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے: مریم نواز خواجہ آصف کے پی حکومت سے دہشت گردی پر 8 سوالات بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس سعودی تنصیبات پر حوثی حملے، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا صحت اور فارما شعبے میں خود انحصاری، برآمدات بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت ملکی برآمدات 30.139 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، 45 فیصد اضافہ پاکستان کی معاشی پوزیشن مضبوط، آئی ایم ایف سے نکلنے کا موقع سرکاری قرضے 10 سال میں 340 فیصد بڑھ گئے، حجم 86.7 کھرب روپے ایران کی سخت وارننگ، حملے کیلئے سرزمین استعمال ہوئی تو جواب مختلف ہوگا اداکارہ نوال پرویز ملک رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں گلاسٹن بری 2027 کے تمام ٹکٹس 45 منٹ میں فروخت ہوگئے انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں دبئی میں صبا قمر اور راکھی ساونت کی اچانک ملاقات
پاکستان خبر

گوگل کے جیمینائی اے آئی ماڈل نے تین ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرلی

گوگل کے جیمینائی اے آئی ماڈل نے تین ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرلی

کیلیفورنیا (ویب ڈیسک) ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے جیمینائی اے آئی ماڈل نے سائبر سکیورٹی صلاحیتوں کے ایک تجربے کے دوران انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات استعمال کرتے ہوئے تین ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرلی۔رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مئی میں آزاد سائبر سکیورٹی ادارے ’’اِرریگولر‘‘ کی جانب سے کیے گئے جائزے کے دوران پیش آیا۔ اسے گوگل کے اے آئی نظام کی جانب سے مبینہ طور پر خودکار طور پر اس نوعیت کی کارروائی کرنے کی پہلی معروف مثال قرار دیا جا رہا ہے۔تجربے کے دوران جیمینائی نے آن لائن معلومات تلاش کیں اور اندازے سے حاصل کیے گئے رسائی کے کوائف استعمال کرکے تین ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی، جنہیں اس نے جائزے کے دائرہ کار میں شامل سمجھا۔گوگل کی سکیورٹی انجینئرنگ کی نائب صدر ہیدر ایڈکنز نے بتایا کہ تینوں اداروں کو واقعے سے آگاہ کردیا گیا تھا، جبکہ تربیتی شراکت دار کے ساتھ مل کر جانچ کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ان کے مطابق یہ واقعہ طاقتور اے آئی ماڈلز کو ذمہ دارانہ انداز میں کام کرنے کی تربیت دینے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔اِرریگولر کے ترجمان نے کہا کہ یہ مسئلہ دیگر اے آئی تجربہ گاہوں کو درپیش مسائل سے ملتا جلتا تھا۔ متعلقہ اداروں کو جولائی کے آخر میں آگاہ کیا گیا تھا، جبکہ ان کی جانب سے شناخت کیے گئے تمام مسائل چند ہفتے قبل حل کر دیے گئے تھے۔