اسلام آباد( پاکستان خبر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملکی معاملات کے حل اور جمہوریت و معیشت کے استحکام کے لیے بامقصد بات چیت پر آمادہ ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی اور کابینہ کے اجلاسوں میں پہلے بھی حکومت کی مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرے تاکہ ملک کی معاشی ترقی اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔شہباز شریف نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کب مذاکرات کی میز پر آتی ہے۔ حکومت نے ہمیشہ مکالمے کو ترجیح دی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے وزیراعظم نے وزارتِ پیٹرولیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 128 ارب روپے مختص کیے، جس کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے اخراجات میں کمی کی گئی۔انہوں نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف دینے کے لیے کوشاں ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے عالمی صورتحال کے اثرات ملکی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، جبکہ خطے کے متعدد ممالک میں ریفائنریاں اور گیس پلانٹس بند ہیں۔