تازہ ترین
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری، کھڑکیاں اور دروازے سمیت لاکھوں روپے کا سامان غائب ’یہ مغرور لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے‘، مریم نواز نے پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کرنے والے ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو شیئر کردی وزیراعظم شہباز شریف کا 30 نومبر سے روس کا چار روزہ دورہ متوقع، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی صورت میں خلیج کی زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز نشانہ بنائی جائیں گی، ایران پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا حوثیوں سے حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت چار سعودی شہروں میں ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری، چند منٹ بعد واپس لے لیا گیا ایران پر نئے امریکی حملے سے کشیدگی بڑھے گی، ترک وزیر خارجہ کا انتباہ پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل 1 روپے 91 پیسے فی لیٹر مہنگا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں وزیر خزانہ کا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ، توانائی کی فراہمی پر بھی اظہارِ خیال ایس آئی ایف سی کے تحت کاروباری ضوابط میں اصلاحات، نجی شعبے کو سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع اب خوشبوئیں بھی آن لائن شیئر ہوں گی، ڈیجیٹل مہک کی نئی ٹیکنالوجی تیار مصنوعی ذہانت پر بڑھتے انحصار کے باعث بارکلے بینک کا 5 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان وین گوو کی شہرہ آفاق پینٹنگ ’دی اسٹاری نائٹ‘ سے متعلق سائنس دانوں کا حیران کن انکشاف ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز اوپن سورس کرنے کی منظوری مل گئی
پاکستان خبر

بھاری ٹیکس اور مہنگی توانائی، ملک کی 40 فیصد سے زائد پاور لومز بند

بھاری ٹیکس اور مہنگی توانائی، ملک کی 40 فیصد سے زائد پاور لومز بند

کراچی( کامرس ڈیسک)غیر یقینی معاشی صورتحال، بھاری ٹیکسوں اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث پاکستان کی کاٹن انڈسٹری شدید مشکلات سے دوچار ہے، جہاں سیکڑوں کاٹن جننگ فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل ملوں کے بعد ملک کی 40 فیصد سے زائد پاور لومز بھی غیر فعال ہوچکی ہیں۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کپاس اور کاٹن کی صنعت کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کسان دوست اور صنعت دوست پالیسیاں متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے باعث مقامی کاٹن انڈسٹری کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کے نرخ، قرضوں پر شرح سود اور ٹیکسوں کی بلند سطح نے پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں گزشتہ کئی برس سے برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کا رجحان بھی برقرار ہے۔احسان الحق کے مطابق ناموافق موسمی حالات کے باعث روئی کا معیار متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں روئی کی درآمدات اور قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مقامی کاٹن انڈسٹری کے مسلسل زوال کے باعث ابتدائی طور پر 500 سے زائد کاٹن جننگ فیکٹریاں اور تقریباً 200 ٹیکسٹائل ملیں غیر فعال ہوئیں، جبکہ اب فیصل آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں 40 فیصد سے زائد پاور لومز بھی بند ہوچکی ہیں۔صنعتی سرگرمیوں میں اس کمی سے نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ مجموعی قومی پیداوار اور معاشی شرح نمو بھی متاثر ہورہی ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کریں جن سے صنعتی پیداواری لاگت کم ہو، بند صنعتیں دوبارہ فعال ہوں اور ملکی معیشت میں ان کا کردار بحال ہوسکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک رحیم یار خان سمیت مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جس کے کپاس کی فصل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔