کیلیفورنیا (ویب ڈیسک) امریکا میں انسان اور ہیومنائیڈ روبوٹ کے درمیان منفرد مقابلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔سان فرانسسکو میں امریکی روبوٹکس کمپنی آر ای کے کی جانب سے منعقدہ اس مقابلے میں امریکی اثر و رسوخ رکھنے والے شخص اور مواد تخلیق کار فرینکی لاپینا نے تقریباً 6 فٹ بلند ہیومنائیڈ روبوٹ کا سامنا کیا۔کمپنی کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایسا مجازی حقیقت پر مبنی کھیلوں کا تجربہ متعارف کرانا ہے جس میں انسان دور بیٹھ کر ہیومنائیڈ روبوٹس کو قابو کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کرسکیں۔وائرل ویڈیو میں مقابلے سے قبل روبوٹ کو پیشہ ور فائٹر کی طرح جسمانی مشق کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ مقابلہ شروع ہونے پر لاپینا نے روبوٹ پر مکوں سے حملے کیے، جبکہ روبوٹ نے لاتوں اور دیگر طاقتور واروں کا جواب دیا۔آر ای کے نے اس مقابلے کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ یہ انسان اور ٹرمینیٹر روبوٹ کے درمیان پہلی فائٹ تھی۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی پیشہ ور فائٹر کا روبوٹ سے مقابلہ ہو تو کیا روایتی لڑائی کی تکنیکیں کارآمد ثابت ہوں گی۔ بعض صارفین کے مطابق مشین سے مقابلہ انسان سے لڑنے سے مختلف ہے اور مکوں کا روبوٹ پر وہ اثر نہیں ہوسکتا جو انسانی فائٹر پر ہوتا ہے۔مقابلے نے دور سے قابو کیے جانے والے ہیومنائیڈ روبوٹس، مجازی حقیقت پر مبنی کھیلوں اور انسان و مشین کے مستقبل کے تعلق سے متعلق بحث کو بھی دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔