نیویارک:( مانیٹرنگ ڈیسک)شام کے صدر احمد الشرع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کے معاملے پر دلچسپ مکالمے کا انکشاف کیا ہے۔احمد الشرع نے نیویارک میں اٹلانٹک کونسل کے ایک پروگرام میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کی بات ہوئی تو انہوں نے ٹرمپ سے مذاقاً کہا کہ آپ گولان کے مالک نہیں، جو اسے اسرائیل کے حوالے کرسکیں، اگر ایسا ہی ہے تو پھر نیو جرسی اسرائیل کو کیوں نہیں دے دیتے؟شامی صدر نے مزید مزاح کرتے ہوئے کہا کہ نیو جرسی میں ڈیموکریٹس کی تعداد زیادہ ہے اور وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیتے، اس لیے اسے اسرائیل کے حوالے کرنا بہتر ہوگا۔احمد الشرع نے تاہم واضح کیا کہ یہ بات انہوں نے مذاقاً کہی تھی، جبکہ ان کا سنجیدہ مؤقف یہ ہے کہ گولان کی پہاڑیاں کسی صدر کی ذاتی ملکیت نہیں کہ وہ انہیں کسی دوسرے ملک کو دے سکے۔اسی گفتگو میں احمد الشرع نے بتایا کہ شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات ایک مرحلے پر تقریباً 90 فیصد اتفاق رائے تک پہنچ گئے تھے، تاہم بعد میں پیش رفت رک گئی۔