تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا قوم سازی میں اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین امریکی سینیٹر کا ایران سے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے پر زور تبدیلی گالیوں سے نہیں، کام کرکے دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے: مریم نواز خواجہ آصف کے پی حکومت سے دہشت گردی پر 8 سوالات بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس سعودی تنصیبات پر حوثی حملے، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا صحت اور فارما شعبے میں خود انحصاری، برآمدات بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت ملکی برآمدات 30.139 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، 45 فیصد اضافہ پاکستان کی معاشی پوزیشن مضبوط، آئی ایم ایف سے نکلنے کا موقع سرکاری قرضے 10 سال میں 340 فیصد بڑھ گئے، حجم 86.7 کھرب روپے ایران کی سخت وارننگ، حملے کیلئے سرزمین استعمال ہوئی تو جواب مختلف ہوگا اداکارہ نوال پرویز ملک رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں گلاسٹن بری 2027 کے تمام ٹکٹس 45 منٹ میں فروخت ہوگئے انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں دبئی میں صبا قمر اور راکھی ساونت کی اچانک ملاقات
پاکستان خبر

امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی

امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا بعض شرائط پوری کردے تو ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔نیویارک میں صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ شرائط نئی نہیں بلکہ اس سے قبل اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں شامل نکات ہی ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ معاہدے پر امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے قبل عمل درآمد ہو، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ نومبر کے انتخابات کے بعد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا وقت امریکا پر منحصر ہے۔دریں اثنا روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور عباس عراقچی نے نیویارک میں ملاقات کے دوران ایران کے معاملے اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے بحران کا فوجی حل نہیں، سفارتی ذرائع ہی اس کا راستہ ہیں۔دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے عباس عراقچی سے ملاقات میں کہا کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر ایران سے منسلک گروہوں کی دھمکی، خوف زدہ کرنے کی کارروائی یا کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز کھولنے اور برطانیہ میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سے متعلق خدشات پر بھی بات ہوئی۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے گزشتہ ہفتے ایرانی ریاست سے منسلک سائبر عناصر کی جانب سے پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس معلومات چوری کرنے کی کوششوں سے خبردار کیا تھا۔