نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا بعض شرائط پوری کردے تو ایران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔نیویارک میں صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ شرائط نئی نہیں بلکہ اس سے قبل اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں شامل نکات ہی ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ معاہدے پر امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے قبل عمل درآمد ہو، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ نومبر کے انتخابات کے بعد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا وقت امریکا پر منحصر ہے۔دریں اثنا روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور عباس عراقچی نے نیویارک میں ملاقات کے دوران ایران کے معاملے اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے بحران کا فوجی حل نہیں، سفارتی ذرائع ہی اس کا راستہ ہیں۔دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے عباس عراقچی سے ملاقات میں کہا کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر ایران سے منسلک گروہوں کی دھمکی، خوف زدہ کرنے کی کارروائی یا کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز کھولنے اور برطانیہ میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سے متعلق خدشات پر بھی بات ہوئی۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے گزشتہ ہفتے ایرانی ریاست سے منسلک سائبر عناصر کی جانب سے پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس معلومات چوری کرنے کی کوششوں سے خبردار کیا تھا۔
امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں