اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالی حسابات میں 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مزید تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے وفاقی اور صوبائی بجٹ حسابات میں شماریاتی فرق، وفاقی بجٹ میں بلاک ایلوکیشنز، زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں اور وفاقی محصولات کے اہداف سے متعلق حکام سے بریفنگ لی۔مالی سال 2025-26 کے حسابات میں مجموعی 853 ارب روپے کے فرق میں وفاقی حکومت کے حسابات کا حصہ 448 ارب روپے ہے۔ حکام کے مطابق یہ فرق زیادہ تر صوبائی حکومتوں کی ٹریژری پیپرز میں سرمایہ کاری، جون کے اختتام سے قبل رقوم کے انخلا اور جولائی یا اس کے بعد حقیقی اخراجات کے اندراج میں فرق کے باعث پیدا ہوا۔پنجاب کے حسابات میں 266 ارب روپے کا شماریاتی فرق سامنے آیا، جس کی بنیادی وجہ کمرشل اکاؤنٹس میں رقوم کی آمد و اخراج اور وفاق و صوبے کے حسابات مرتب کرنے کے طریقہ کار میں فرق بتایا گیا ہے۔حکام کے مطابق ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں جون تک تاخیر کے باعث بعض رقوم غیر استعمال شدہ رہ جاتی ہیں۔ ان کے استعمال کیلئے جون کے اختتام سے قبل چیک جاری کیے جاتے ہیں، تاہم حقیقی ادائیگیاں 30 جون کے بعد ہوتی ہیں۔وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ شماریاتی فرق سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اس فرق سے حکومت کے ظاہر کردہ بنیادی بجٹ سرپلس پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں سے متعلق بھی تفصیلات طلب کیں۔ گزشتہ مالی سال میں پنجاب اور سندھ کی مجموعی وصولیاں 5 ارب روپے سے کچھ زیادہ رہیں۔سندھ میں زرعی انکم ٹیکس کی مد میں 2 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں ایک ارب 10 کروڑ روپے وصول ہوئے، جبکہ پنجاب میں 10 ارب 50 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں وصولیاں 4 ارب روپے رہیں۔رواں مالی سال پنجاب نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 12 ارب 50 کروڑ روپے مقرر کیا ہے۔ ایف بی آر نے زرعی آمدن ظاہر کرنے والے 44 ہزار 350 افراد کا ڈیٹا سندھ حکومت کو فراہم کردیا ہے۔دریں اثنا ایف بی آر نے رواں مالی سال کے 15 ہزار 263 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستانی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات سے مشروط کردیا ہے۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ ایف بی آر ڈیجیٹل انوائسنگ اور پیداواری لائنوں کی نگرانی سمیت کارکردگی کے اہم اہداف حاصل کرے گا، جبکہ پہلی سہ ماہی کیلئے مقرر 7 ہزار ارب روپے کے ہدف کے حصول کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے پورے مالی سال کے 15 ہزار 263 ارب روپے کے ہدف کی قطعی یقین دہانی نہیں کرائی اور کہا کہ اس کا حصول خطے کی سلامتی کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے حالات اور پاکستانی معیشت پر ان کے اثرات پر منحصر ہوگا۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق قانون سازی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ میں نئی دفعہ 15 اے شامل کی گئی ہے، جس کے تحت گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے اور ان کی تفصیلات ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔