کراچی( کامرس ڈیسک)پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گاڑیوں کی برآمدات میں اضافے کیلئے صنعت پر پابندیوں یا جرمانوں کے بجائے سہولتیں اور مراعات فراہم کی جائیں۔ایسوسی ایشن کے مطابق نئی آٹو پالیسی کی منظوری سے قبل اس کا مسودہ متعلقہ صنعت کے ساتھ شیئر کیا جائے تاکہ مینوفیکچررز اپنی تجاویز پیش کرسکیں۔ پاما نے برآمدی اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں اضافی محصولات عائد کرنے یا پیداواری اجازت نامے منسوخ کرنے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاما کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ملکی آٹو صنعت برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ میں اپنا حصہ بہتر بنانے کی اہمیت سے آگاہ ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے سزا کے بجائے مراعات، سہولت کاری اور سازگار کاروباری ماحول ضروری ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مسابقتی گاڑی سازی اور برآمدی مرکز بنانے کیلئے صنعت اپنا تعاون جاری رکھے گی۔ برآمدات میں نمایاں اضافہ فوری طور پر ممکن نہیں، بلکہ اس کیلئے ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہے۔پاما کے مطابق برآمدی اہداف عالمی طلب، شرح مبادلہ اور تجارتی معاہدوں سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے نئی آٹو پالیسی میں واضح، مستقل اور شفاف حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔ڈائریکٹر جنرل پاما نے مطالبہ کیا کہ پالیسی کو حتمی شکل دینے سے پہلے صنعت کو مسودے کا جائزہ لے کر تعمیری تجاویز پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔