نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں بڑھتی بے روزگاری نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے، جبکہ روزگار کے محدود مواقع نے حکومت کے معاشی ترقی کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارت میں 25 سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد گریجویٹس روزگار کے بحران سے متاثر ہیں۔ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد ملازمتوں کے دستیاب مواقع سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی خاندان تعلیم پر بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود نوجوانوں کو بہتر روزگار دلوانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث تعلیم اور ملازمت کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔بھارتی تعلیمی فیلوشپ پروگرام کے بانی اکشے سکسینا کے مطابق تعلیم اور روزگار کے درمیان بڑھتا ہوا خلا نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کررہا ہے۔بلومبرگ سے وابستہ صحافیوں کے مطابق بھی بھارت میں نوجوانوں کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مناسب روزگار کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔