نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے سرگرم نوجوانوں کی تحریک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 48 گھنٹے کی مہلت دے دی۔تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کہا ہے کہ اگر گیانیش کمار نے 48 گھنٹے میں استعفیٰ نہ دیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔یہ اعلان بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس کے مطابق الیکشن کمیشن کے ارکان سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سمیت مختلف معاملات پر کم از کم 14 مرتبہ سوالات یا تحفظات ظاہر کیے۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر اعتراضات ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی سے متعلق تھے۔بھارتی اپوزیشن جماعتیں بھی ووٹر فہرستوں میں نام حذف اور نئے نام شامل کیے جانے کے عمل پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ کانگریس نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ملک بھر میں ریاستی الیکشن دفاتر کے سامنے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے، جس میں گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے دور میں ہونے والے فیصلوں و ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کیا جائے گا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تین رکنی کمیشن کے ارکان میں اختلافِ رائے معمول کے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوسکتا ہے اور مختلف آرا پر حتمی فیصلے سے قبل غور کیا جاتا ہے۔ کمیشن نے اپنے تمام اقدامات کو قانونی قرار دیا ہے۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اس سے قبل جولائی میں نوجوانوں کے احتجاج میں بھی سرگرم رہی تھی۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے الیکشن کمیشن پر اپوزیشن کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور جمہوری طریقے سے کام کر رہا ہے۔ یوں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی اور الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات بھارت میں ایک نیا سیاسی تنازع بن گئے ہیں۔