تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

بھارتی راکٹ ناکام، 16 سیٹلائٹس ضائع

بھارتی راکٹ ناکام، 16 سیٹلائٹس ضائع

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی خلائی ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کو ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کا راکٹ لانچ کے تیسرے مرحلے میں ناکام ہو گیا، جس کے نتیجے میں 16 سیٹلائٹس خلا میں ضائع ہو گئے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ناکامی راکٹ کے تیسرے اسٹیج میں تکنیکی خرابی کے باعث ہوئی۔ انڈیا ٹو ڈے کے مطابق یہ صرف ایک تکنیکی حادثہ نہیں بلکہ بھارتی خلائی پروگرام میں مسلسل کمزوریوں کا ایک اور ثبوت ہے۔واضح رہے کہ 18 مئی 2025 کو PSLV-C61 مشن بھی اسی مرحلے میں خرابی کے باعث ناکام ہو چکا ہے۔ مسلسل ناکامیوں نے بھارت کی خلائی ٹیکنالوجی اور اس سے جڑے اسٹرٹیجک نظاموں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ PSLV راکٹ میں استعمال ہونے والی بعض ٹیکنالوجیز بھارت کے اگنی میزائل پروگرام سے بھی جڑی ہوئی ہیں، جس سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اگر خلائی راکٹ میں یہ خامیاں سامنے آ رہی ہیں تو یہی مسائل کسی جنگی صورتحال میں اسٹرٹیجک میزائل سسٹمز کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔