تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق اپنا مؤقف دوبارہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقتدار میں رہنے تک اہم بحری راستہ نہیں کھولا جائے گا۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سیاسی مشیر محمد باقر ذوالقدر نے 200 روزہ مزاحمت کے حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایران کے جوابی اقدامات کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 200 روز کے دوران ایرانی عوام نے مزاحمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بقول ایران کئی دہائیوں سے اپنی شناخت، آزادی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے بیرونی قوتوں کے مقابل کھڑا ہے اور اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔محمد باقر ذوالقدر نے دعویٰ کیا کہ مخالف قوتوں کو توقع تھی کہ ایران کو چند روز میں شکست دے دی جائے گی، تاہم ایرانی عوام نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے ایرانی رہنماؤں، میناب اسکول کے بچوں، لامرد کے نوجوانوں، بامپور کے فوجیوں اور جنگی جہاز ’دینا‘ کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔