تہران / ریاض( مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور سعودی عرب نے ایک دوسرے کے مؤقف پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایران نے عراق میں امریکا اور سعودی عرب کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے، جبکہ سعودی عرب نے اردن پر ایران سے منسوب حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عراق میں امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے حملے عراقی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ایران کے مطابق ان حملوں میں ایسے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جو عراقی سرکاری اداروں اور اربعین زائرین کے لیے قائم سہولتوں سے منسلک تھے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ان کارروائیوں کو غیر انسانی اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔ایرانی حکام نے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور عراقی حکومت و عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے اردن پر ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کے منافی ہیں۔سعودی عرب نے اردن کے ساتھ مکمل تعاون کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اردن کی سلامتی اور استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔سعودی وزارت خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اردن اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف کارروائیاں فوری طور پر روکے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران، سعودی عرب، عراق اور اردن سے متعلق حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، جبکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔