لاہور( کامرس ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان جنگ و کشیدگی نے پاکستان سمیت دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں اور ہوا بازی کی صنعت کو شدید مالی نقصان سے دوچار کردیا، جبکہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں نے بحران کی شدت مزید بڑھا دی ہے۔حالیہ کشیدگی کے باعث مسافروں کے سفری اخراجات میں 30 سے 35 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ کورونا وبا کے بعد موجودہ صورتحال کو ہوا بازی کی صنعت کے لیے سب سے بڑا مالی دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ تاجروں نے مال کی ترسیل کے لیے فضائی راستہ اختیار کیا تو فضائی کمپنیوں نے بھی کرایوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ کردیا۔رپورٹ کے مطابق اگر حالات جلد معمول پر نہ آئے تو متعدد فضائی کمپنیاں اپنی پروازیں بند کرنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بار بار بند ہونے سے عالمی فضائی سفر کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور دنیا بھر میں 52 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔برصغیر میں بھارت کو اس بحران سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جہاں فضائی سرگرمیوں میں 50 سے 60 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 60 لاکھ سے زائد مسافر اس بحران سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔