واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکی افواج اب تک دو اقسام کے بیلسٹک میزائل استعمال کرچکی ہیں، جن میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں کے ذریعے ایرانی زمینی تنصیبات کو فاصلے سے نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل امریکا کے پاس موجود ایک ہزار ٹوماہاک کروز میزائلوں میں سے اب صرف 150 باقی رہ گئے ہیں۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملے روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں استعمال ہونے والے امریکی دفاعی نظام پیٹریاٹ اور تھاڈ کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔جنگ سے پہلے امریکا کے پاس 452 تھاڈ میزائل موجود تھے، جن میں سے اب 234 باقی ہیں، جبکہ 2330 پیٹریاٹ میزائلوں میں سے صرف 759 دستیاب رہ گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق ان میزائل نظاموں کی تیاری میں طویل وقت اور بھاری سرمایہ درکار ہوتا ہے، اس لیے موجودہ کمی امریکی دفاعی ذخائر کے لیے اہم چیلنج بن سکتی ہے۔