واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی حکومتی نگراں ادارے کی رپورٹ میں ایران کے ساتھ کئی ماہ تک جاری براہِ راست جنگ کے بعد امریکی فوج کو اسٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور جدید اسلحے کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔امریکی محکمۂ دفاع، محکمۂ خارجہ اور ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے انسپکٹر جنرلز کی مشترکہ رپورٹ میں پہلی بار اہم گولہ بارود کے ذخائر میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے بڑے نقصانات کی تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔رپورٹ میں ماہرین کے اندازوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کو جدید میزائلوں اور دفاعی میزائلوں کے ذخائر جنگ سے قبل کی سطح پر بحال کرنے میں 3 سال تک لگ سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جہاں سیکڑوں عمارتیں اور دیگر ڈھانچے تباہ یا متاثر ہوئے۔ایرانی حملوں کے نتیجے میں درجنوں امریکی طیاروں اور ڈرونز کو بھی نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔