تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی گئی تو خطے کا کوئی بھی انفرااسٹرکچر حملوں سے محفوظ نہیں رہے گا۔ایرانی سرکاری میڈیا کو جاری ویڈیو بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو خطے کے کسی دوسرے ملک کو بھی تیل فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایران کی سکیورٹی یقینی نہ بنائی گئی تو خطے کا کوئی انفرااسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔قالیباف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایران کی بعض شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے، جبکہ تہران امریکی جواب کا منتظر ہے۔رپورٹس کے مطابق قطر ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں کردار ادا کررہا ہے۔ عراقچی کے مطابق تہران اور قطری ثالثوں کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق شرائط پر بات چیت ہوئی ہے، جبکہ امریکا کا حتمی جواب قطر کے ذریعے ایران تک پہنچایا جائے گا۔قالیباف کی تازہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک نے ثالثوں کے ذریعے الگ الگ بات چیت کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی اور تنازع کے خاتمے کی راہ تلاش کرنا بھی شامل ہے۔
ایران کی سخت وارننگ، سکیورٹی یقینی نہ ہوئی تو انفرااسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں