لاہور( پاکستان خبر) پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے پر جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج جاری ہے، جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں ٹرین مارچ سکھر پہنچ گیا، جہاں مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر عوام نے اس کا بھرپور استقبال کیا۔نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد نے نئی سیاسی تاریخ رقم کی ہے، 510 سڑکوں کی بندش اور 40 مقامات پر دھرنوں سے حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور متبادل آمدن کے لیے 6 قابلِ عمل تجاویز دی جاچکی ہیں، تاہم حکومتی کمزوریوں کے باعث بنیادی اقدامات سے گریز کیا جا رہا ہے۔لیاقت بلوچ کے مطابق حکومت نے وزیراعظم کی واپسی اور آئی ایم ایف مذاکرات تک مہلت مانگی ہے، تاہم تاخیری حربے قابلِ قبول نہیں، اسلام آباد سپر لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کو بھتہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے اعلان تک احتجاج اور لانگ مارچ جاری رکھا جائے گا۔ حکومت اپوزیشن کے 27 ستمبر کے احتجاج کو جواز بنا کر گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہی ہے اور ہائی کورٹ کے فیصلے کی من پسند تشریح کے ذریعے توہینِ عدالت کی جا رہی ہے۔نائب امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ حکومت نے خود راستے بند کرکے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا، جبکہ پی ٹی آئی کو پُرامن احتجاج کا آئینی و سیاسی حق حاصل ہے۔ جماعت اسلامی حکومتی سطح پر پی ٹی آئی کے ساتھ تصادم نہیں ہونے دے گی، جبکہ سپر لانگ مارچ کے ملتان سے اگلے مرحلے کا اعلان جلد کیا جائے گا۔