ٹوکیو ( ویب ڈیسک)جاپانی سائنس دان مریخ کے چاند فوبوس سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس مشن کا مقصد نظامِ شمسی کی تشکیل، زمین پر زندگی کے آغاز اور مریخ کے چاندوں کی حقیقت سے متعلق اہم رازوں سے پردہ اٹھانا ہے، جبکہ مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی کوششوں میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔جاپان کے خلائی تحقیق کے ادارے جاکسا کا تیار کردہ بغیر انسانوں والا خلائی مشن ’’مارشین مونز ایکسپلوریشن‘‘ (ایم ایم ایکس) امریکی اور یورپی خلائی اداروں، جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق، مشن کو جاپانی ایچ 3 راکٹ کے ذریعے تانے گاشیما خلائی مرکز سے روانہ کیا جائے گا۔خلائی جہاز تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد مریخ کے قریب پہنچے گا اور اس کے چاند فوبوس کے گرد تین سال تک گردش کرے گا۔ اس دوران مشن کا ہدف فوبوس کی سطح سے کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنا اور انہیں زمین پر واپس لانا ہے۔نمونے حاصل کرنے سے قبل آئی ڈی فکس نامی تحقیقی گاڑی فوبوس کی سطح کا جائزہ لے گی، تاکہ خلائی جہاز کو اترنے کے لیے محفوظ مقام کے انتخاب میں مدد مل سکے۔ مشن کے دوران مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کیا جائے گا، تاہم وہاں اترنے کا منصوبہ شامل نہیں۔مشن کے سربراہ یاسوہیرو کاواکاتسو کے مطابق، فوبوس سے نمونے حاصل کرنے کی یہ دنیا کی پہلی کوشش ہوگی۔ یہ مشن مریخ کے خطے تک پہنچنے، وہاں سے نمونے جمع کرنے اور انہیں زمین پر واپس لانے کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔جاپانی خلائی ادارے کو امید ہے کہ اس مشن سے مریخ اور اس کے دونوں چاندوں کی تشکیل سے متعلق کئی اہم سوالات کے جواب مل سکیں گے۔ سائنس دانوں کے سامنے ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا مریخ کے چاند کسی بڑے فلکیاتی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے نتیجے میں خارج ہونے والے مادے سے وجود میں آئے یا یہ ایسے سیارچے ہیں جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنے مدار میں قید کرلیا تھا۔ماہرین کے مطابق، ان نظریات کی حقیقت جاننے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زمین سمیت چٹانی سیاروں پر زندگی کے لیے موزوں ماحول کیسے تشکیل پایا۔ اس کے علاوہ پانی اور نامیاتی مرکبات کی مختلف علاقوں تک منتقلی سے متعلق معلومات حاصل ہونے کی بھی توقع ہے، جو زندگی کے آغاز کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔اس مشن میں فرانس، جرمنی، امریکا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت متعدد ادارے شریک ہیں۔ تاہم، فوبوس کی انتہائی کمزور کششِ ثقل اور مریخ کے قریب پہنچ کر نمونے جمع کرنے کے بعد زمین پر واپس آنے کے پیچیدہ تقاضے سائنس دانوں کے لیے بڑے تکنیکی چیلنج ہیں۔دوسری جانب، چین نے اپنا ’’تیان وین 3‘‘ مشن تقریباً 2028 میں روانہ کرنے اور 2031 تک مریخ سے نمونے زمین پر لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔جاپانی سائنس دانوں کے مطابق، فوبوس کی مٹی اور چٹانوں کے تجزیے سے مریخ کی تشکیل، اس کے چاندوں کی ابتدا اور ممکنہ طور پر زندگی کے آغاز سے متعلق ایسے شواہد سامنے آسکتے ہیں جو نظامِ شمسی کی تاریخ اور زمین پر زندگی کے لیے سازگار حالات کی تشکیل کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔