تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

کابل تعلیمی مرکز میں دھماکا، 42 بچے زخمی

کابل تعلیمی مرکز میں دھماکا، 42 بچے زخمی

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے دشتِ برچی میں ایک تعلیمی مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 42 بچے زخمی ہوگئے۔خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا پیر کی شام اس علاقے میں ہوا جہاں بڑی تعداد میں ہزارہ اور شیعہ برادری کے افراد آباد ہیں۔ دشتِ برچی میں ماضی میں بھی شہریوں اور تعلیمی اداروں کو حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔کابل کے ایک اسپتال کے مطابق دھماکے کے بعد لائے گئے کم از کم 35 زخمی طلبہ کی عمریں 10 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تمام زخمیوں کو چھروں سے زخم آئے، جبکہ کم از کم 3 بچوں کو جراحی کی ضرورت پڑی۔دھماکے کی وجہ اور ذمہ داروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے دھماکے کو سنگین حملہ قرار دیا۔یورپی یونین کے افغانستان مشن نے بھی بچوں اور تعلیمی مراکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے واقعات کو ناقابل قبول قرار دیا۔دشتِ برچی میں اس سے قبل بھی تعلیمی ادارے حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔ مئی 2021 میں ایک اسکول پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 85 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ستمبر 2022 میں ایک تعلیمی مرکز پر خودکش حملے میں کم از کم 19 افراد جان سے گئے تھے۔