کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے دشتِ برچی میں ایک تعلیمی مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 42 بچے زخمی ہوگئے۔خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا پیر کی شام اس علاقے میں ہوا جہاں بڑی تعداد میں ہزارہ اور شیعہ برادری کے افراد آباد ہیں۔ دشتِ برچی میں ماضی میں بھی شہریوں اور تعلیمی اداروں کو حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔کابل کے ایک اسپتال کے مطابق دھماکے کے بعد لائے گئے کم از کم 35 زخمی طلبہ کی عمریں 10 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تمام زخمیوں کو چھروں سے زخم آئے، جبکہ کم از کم 3 بچوں کو جراحی کی ضرورت پڑی۔دھماکے کی وجہ اور ذمہ داروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے دھماکے کو سنگین حملہ قرار دیا۔یورپی یونین کے افغانستان مشن نے بھی بچوں اور تعلیمی مراکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے واقعات کو ناقابل قبول قرار دیا۔دشتِ برچی میں اس سے قبل بھی تعلیمی ادارے حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔ مئی 2021 میں ایک اسکول پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 85 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ستمبر 2022 میں ایک تعلیمی مرکز پر خودکش حملے میں کم از کم 19 افراد جان سے گئے تھے۔