اسلام آباد (پاکستان خبر) وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے ذریعے صوبے میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے 2024ء کے بنوں واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق اس مرتبہ بھی احتجاج کی آڑ میں فوج اور پولیس کی تنصیبات کے قریب افراتفری پھیلانے کی تیاری کی گئی ہے۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ فوجی اور انٹیلیجنس اداروں کو اس منصوبے کی پیشگی اطلاع مل چکی ہے۔ ان کے مطابق 2 اکتوبر کی کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں بھی پُرتشدد انتشار، ریاستی اداروں پر حملوں یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوششوں سے قانون کے مطابق نمٹنے کا واضح مؤقف سامنے آیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران کسی بھی قسم کے پُرتشدد واقعے یا ریاستی اداروں پر حملے کی کوشش کی گئی تو قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت کو الگ الگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کے بقول اگر سیاسی سرگرمی کی آڑ میں مسلح کارروائی کی گئی تو اسے ریاست کے خلاف اقدام سمجھا جائے گا۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق مارچ جنوبی اضلاع سے شروع ہوگا اور مختلف علاقوں کے قافلے صوابی میں جمع ہوں گے۔