لاہور( سپورٹس ڈیسک) پاکستان کی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے ڈھانچے کو ایک اور نقصان پہنچا ہے، معروف ٹیم خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) نے مالی مشکلات کے باعث اپنی کرکٹ ٹیم ختم کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے لیے سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے فیس مقرر کیے جانے کے بعد کے آر ایل نے رواں سیزن میں شرکت جاری رکھنے سے معذرت کر لی۔ ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔کے آر ایل حکام کا کہنا ہے کہ ٹیم ختم کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، تاہم پی سی بی کی مقرر کردہ فیس میں اضافے کے باعث مالی دباؤ بڑھ گیا، جس کے بعد ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں حصہ لینا ممکن نہیں رہا۔ انتظامیہ اس حوالے سے پی سی بی کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گی۔ٹیم مینیجر رضوان آصف کے مطابق کھلاڑیوں کو صورتحال سے مطلع کر دیا گیا ہے، جن کھلاڑیوں کو دیگر اداروں سے پیشکشیں مل چکی ہیں وہ آزاد ہیں، جبکہ دیگر کھلاڑیوں کے معاہدے مقررہ مدت تک برقرار رہیں گے۔ ستمبر میں معاہدوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد تمام کھلاڑیوں کو ریلیز کر دیا جائے گا۔انہوں نے کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کے آر ایل ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔دوسری جانب واپڈا کی جانب سے بھی فیس جمع نہ کرانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کے آر ایل ماضی میں معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دلچسپی سے قائم کی گئی تھی۔پاکستان کی کئی بڑی ڈپارٹمنٹل ٹیمیں، جن میں پی آئی اے، یو بی ایل، الائیڈ بینک اور نیشنل بینک شامل ہیں، پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیس کے معاملے پر پی سی بی اور ڈپارٹمنٹس کے درمیان اختلافات کے باعث مزید ٹیمیں بھی دستبردار ہو سکتی ہیں۔تاہم پی سی بی کے جنرل منیجر اسامہ نیازی نے دیگر ٹیموں کی جانب سے فیس جمع نہ کرانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف واپڈا کی فیس زیر التوا ہے۔ پی سی بی نے فیس جمع کرانے کے لیے 31 جولائی تک کی مہلت دی تھی، جبکہ بعض ڈپارٹمنٹس نے ڈیڑھ کروڑ روپے سالانہ فیس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔