تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

کائنات کا سب سے بڑا رنگین نقشہ تیار، 4 ارب خلائی اجرام کی تفصیلات شامل

کائنات کا سب سے بڑا رنگین نقشہ تیار، 4 ارب خلائی اجرام کی تفصیلات شامل

نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک)ماہرینِ فلکیات نے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا دو بُعدی رنگین نقشہ جاری کردیا، جس میں تقریباً 4 ارب ستاروں، کہکشاؤں اور دیگر خلائی اجسام کا ڈیٹا شامل ہے۔یہ غیر معمولی نقشہ ڈیسی لیگیسی امیجنگ سرویز کی ٹیم نے تیار کیا ہے، جس میں 5.6 کھرب پکسلز موجود ہیں۔ اس کا ڈیٹا عام افراد، ماہرینِ فلکیات اور شہری سائنس دانوں کے لیے بھی دستیاب ہے، جسے آن لائن لیگیسی سروے اسکائی ویور کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق نئی تصویر کی مدد سے خلاء میں موجود نایاب مظاہر کا سراغ لگانے میں آسانی ہوگی، جن میں ثقلی عدسہ کاری اور مختصر عرصے کے لیے ظاہر ہونے والے واقعات، بالخصوص سپرنووا شامل ہیں۔نقشے کی مدد سے ماہرین کائنات کے دو بڑے معموں، تاریک مادّے اور تاریک توانائی، کو سمجھنے کی کوشش بھی کرسکیں گے۔ تاریک مادّہ کائنات کے بیشتر مادّے کی کمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، جبکہ تاریک توانائی کائنات کے تیزی سے پھیلاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔نیا نقشہ ڈیسی لیگیسی امیجنگ سرویز کے سابقہ مشاہداتی اعداد و شمار پر مبنی ہے، جو پہلے ہی فلکیاتی تحقیق میں نمایاں اہمیت حاصل کرچکے ہیں۔ اب تک 1800 سے زیادہ سائنسی مقالوں میں ان اعداد و شمار سے استفادہ یا ان کا حوالہ دیا جاچکا ہے۔لیگیسی سرویز کے شریک سربراہ اور امریکی لارنس برکلے قومی تجربہ گاہ کے سائنس دان ڈیوڈ شلیگل کے مطابق یہ معلومات فلکیاتی تحقیق کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں اور ماہرین کسی خلائی جرم پر تحقیق شروع کرنے سے پہلے اکثر لیگیسی امیجنگ ویوور پر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی نقشہ سازی سے کائنات کے وسیع ڈھانچے، اربوں خلائی اجسام اور اس کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کے لیے تحقیق کے نئے راستے کھل گئے ہیں۔