واشنگٹن( ویب ڈیسک) نئی سائنسی تحقیق میں مریخ کے شمالی قطب پر سائنس دانوں کے سابقہ اندازوں سے کم گرد و غبار موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو سرخ سیارے کی برف اور ماضی کی آب و ہوا کو سمجھنے میں اہم ثابت ہوسکتا ہے۔مریخ ماضی میں کسی حد تک زمین سے مشابہ دکھائی دیتا تھا، تاہم موجودہ دور میں یہ زندگی کیلئے انتہائی ناموزوں سیارہ ہے۔ اس کے باوجود مریخ پر موجود برف سائنس دانوں کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس میں سیارے کے قدیم موسم اور آب و ہوا کے شواہد محفوظ ہوسکتے ہیں۔یونیورسٹی آف واشنگٹن کی تحقیق کے مطابق مریخ کے قطبی علاقوں کے علاوہ زیادہ تر برف گرد و غبار کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ گرد و غبار برف کی سطح کو زیادہ سیاہ کردیتی ہے، جس سے سورج کی روشنی کے انعکاس اور مریخ کے درجہ حرارت پر اثر پڑتا ہے۔تحقیق جرنل این پی جے اسپیس ایکسپلوریشن میں شائع ہوئی ہے۔ محققین کے مطابق برف میں محفوظ معلومات سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ مریخ ماضی میں زندگی کیلئے سازگار ماحول رکھتا تھا یا نہیں۔واشنگٹن یونیورسٹی کی اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کے سینئر ریسرچ سائنس دان آدتیہ کھلر نے بتایا کہ مریخ کے شمالی قطب کے گرد پانی برف کی شکل میں موجود ہونے پر سائنس دان متفق ہیں، تاہم طویل عرصے سے اس برف میں موجود گرد و غبار کی مقدار پر اختلاف رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ گرد و غبار برف کو سیاہ کردیتی ہے۔ جس طرح دھوپ میں گہرے رنگ کا لباس زیادہ گرم ہوتا ہے، اسی طرح گرد آلود برف بھی زیادہ حرارت جذب کرتی ہے اور تیزی سے بخارات میں تبدیل ہوتی ہے۔