تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرری سے جاری سیاسی تعطل ختم

محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرری سے جاری سیاسی تعطل ختم

اسلام آباد( پاکستان خبر) محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرری نے پانچ ماہ سے جاری سیاسی تعطل کو بظاہر ختم کر دیا ہے، تاہم اس فیصلے کی ٹائمنگ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ 8 فروری سے پی ٹی آئی کے مظاہروں کا آغاز ہونے والا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اچانک یہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جبکہ اکتوبر میں پی ٹی آئی کی درخواست پر انہوں نے غور کرنے سے انکار کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اچکزئی کی تقرری سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایما پر ہوئی، تاہم سپیکر ایاز صادق نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے خود کیا اور نواز شریف نے انہیں فیصلوں کا مکمل اختیار دے رکھا ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پارٹی میں تمام فیصلے نواز شریف کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں اور حتمی اختیار ہمیشہ نواز شریف کے پاس ہوتا ہے۔یہ قدم پارلیمانی کارروائیوں میں اپوزیشن کی موجودگی کو مستحکم کرنے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔