تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

مو لانافضل الرحمان کی کشمیر ایکشن کمیٹی سے بڑے اقدام سے گریز کی اپیل

مو لانافضل الرحمان کی کشمیر ایکشن کمیٹی سے بڑے اقدام سے گریز کی اپیل

 اسلام آباد( پاکستان خبر)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کشمیر کے عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، عوامی تحریک اب پورے کشمیر میں پھیل چکی ہے اور اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔اپنے ویڈیو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں اہل کشمیر کا احتجاج جاری ہے اور دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود دھرنا جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ 5 جون 2026 کو حالات کشیدہ ہونے اور حکومت و کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا۔ ایک بڑے وفد نے ملاقات کرکے انہیں تحریری طور پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی نے ان پر اعتماد کیا جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، انہوں نے ثالثی کی درخواست قبول کی اور اس حوالے سے ان کا رابطہ مولانا سعید یوسف خان، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور سردار کامران اعظم خان کے ذریعے رہا۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران جہاں کمیٹی نے ان پر اعتماد کیا اور ثالثی کی درخواست کی، وہاں حکومت نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی۔مولانا فضل الرحمان نے موجودہ صورتحال میں کشمیر ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئندہ اقدامات پر نظرثانی کریں، مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں اور کسی بڑے اقدام سے گریز کرتے ہوئے ایک اور موقع فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ حالات انتہائی تکلیف دہ ہیں، لوگ زخمی ہیں اور جانی نقصان بھی ہوا ہے، اس کے باوجود وہ کشمیری عوام کے تحمل، صبر اور برداشت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کے تعاون سے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے گا۔