تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

مو لانافضل الرحمان کی کشمیر ایکشن کمیٹی سے بڑے اقدام سے گریز کی اپیل

مو لانافضل الرحمان کی کشمیر ایکشن کمیٹی سے بڑے اقدام سے گریز کی اپیل

 اسلام آباد( پاکستان خبر)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کشمیر کے عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، عوامی تحریک اب پورے کشمیر میں پھیل چکی ہے اور اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔اپنے ویڈیو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں اہل کشمیر کا احتجاج جاری ہے اور دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود دھرنا جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ 5 جون 2026 کو حالات کشیدہ ہونے اور حکومت و کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا۔ ایک بڑے وفد نے ملاقات کرکے انہیں تحریری طور پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی نے ان پر اعتماد کیا جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، انہوں نے ثالثی کی درخواست قبول کی اور اس حوالے سے ان کا رابطہ مولانا سعید یوسف خان، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور سردار کامران اعظم خان کے ذریعے رہا۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران جہاں کمیٹی نے ان پر اعتماد کیا اور ثالثی کی درخواست کی، وہاں حکومت نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی۔مولانا فضل الرحمان نے موجودہ صورتحال میں کشمیر ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئندہ اقدامات پر نظرثانی کریں، مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں اور کسی بڑے اقدام سے گریز کرتے ہوئے ایک اور موقع فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ حالات انتہائی تکلیف دہ ہیں، لوگ زخمی ہیں اور جانی نقصان بھی ہوا ہے، اس کے باوجود وہ کشمیری عوام کے تحمل، صبر اور برداشت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کے تعاون سے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے گا۔