تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

غزہ میں صحافیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور میڈیا ڈھانچے کی تباہی

غزہ میں صحافیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور میڈیا ڈھانچے کی تباہی

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں صحافیوں کی بڑی تعداد بے گھر ہو گئی ہے یا انہیں نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔فلسطینی صحافی تنظیم کی فریڈمز کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں 60 سے 75 فیصد صحافی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں یا جبری طور پر نقل مکانی کا سامنا کر رہے ہیں۔"میڈیا ود آؤٹ والز" کے عنوان سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 265 صحافی جاں بحق ہو چکے ہیں، جو کسی بھی تنازع میں صحافیوں کی اموات کی عالمی سطح پر سب سے زیادہ شرح ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں میڈیا کے 80 فیصد دفاتر اور ادارے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس سے صحافتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اسے تقریباً مکمل طور پر ختم شدہ صورتحال قرار دیا گیا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں غزہ کے صحافی روایتی نیوز رومز کے بجائے خیموں، سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے پاس بنیادی ذریعہ صرف موبائل فون ہے، جبکہ محدود اور غیر مستحکم انٹرنیٹ ان کی خبروں کی ترسیل اور اشاعت کے عمل کو شدید متاثر کر رہا ہے۔