کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)مائیکروسافٹ اور این ویڈیا نے مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس نئے لیپ ٹاپ پر پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ونڈوز کمپیوٹرز پر اے آئی کے خودکار استعمال کو مزید وسعت دینا ہے۔ مجوزہ ڈیوائس کا نام ’’سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا‘‘ رکھا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایسے ونڈوز کمپیوٹرز تیار کیے جائیں گے جن پر اے آئی ایجنٹس ہر کام کے لیے کلاؤڈ سروسز پر انحصار کیے بغیر کوڈنگ اور دیگر پیچیدہ کام انجام دے سکیں گے۔ اس طرح مہنگے ڈیٹا سینٹرز پر ہونے والے بعض کام گھروں اور دفاتر میں موجود کمپیوٹرز پر منتقل کیے جاسکیں گے۔مائیکروسافٹ کے لیے یہ منصوبہ اہم ہے کیونکہ کمپنی کی پی سی مارکیٹ میں طویل عرصے سے مضبوط موجودگی ہے۔ دوسری جانب ایپل بھی اپنے نئے میک کمپیوٹرز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔این ویڈیا کے لیے یہ پیش رفت ونڈوز لیپ ٹاپ کی چپ مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کا موقع ہے، جہاں طویل عرصے سے انٹیل اور اے ایم ڈی کا اثر رہا ہے۔ کمپنی مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کردہ چپس کے ذریعے اس شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانا چاہتی ہے۔سان فرانسسکو میں مائیکروسافٹ کی میزبانی میں ہونے والی تقریب دونوں کمپنیوں کے درمیان کئی سال سے جاری شراکت داری کا حصہ ہے۔ اس تعاون کا مقصد اے آئی چپس کی مدد سے کمپیوٹر کوڈنگ اور پیچیدہ کاروباری منصوبوں جیسے کام براہِ راست ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ پر انجام دینا ہے۔مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا اور این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کی جانب سے ’’سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا‘‘ متعارف کرایا جانا اس منصوبے کا اہم حصہ ہوگا۔تاہم ماہرین کے مطابق اس ڈیوائس کی قیمت ایک اہم سوال ہے۔ حالیہ عرصے میں میموری چپس کی قلت کے باعث کمپیوٹر ہارڈویئر کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طاقتور اے آئی لیپ ٹاپ عام صارفین کی پہنچ میں کس حد تک ہوں گے۔
مائیکروسافٹ اور این ویڈیا کا اے آئی لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز پر مقامی مصنوعی ذہانت کے استعمال میں پیش رفت
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی