آبنائے ہرمز (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی بحری جہاز شکن کروز میزائل کے حملے میں 8 امریکی میرینز کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے تین امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ 14 ستمبر کو پیش آیا تھا۔رپورٹ کے مطابق میزائل ایک ایسے بحری جہاز سے ٹکرایا جس پر امریکی میرینز سوار تھے۔ حملے کے بعد اہلکاروں کو دھوئیں کے باعث سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض میں دماغی چوٹ، چکر اور سر درد جیسی علامات بھی ظاہر ہوئیں۔ تاہم کسی اہلکار کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔زخمی ہونے والے 8 میرینز میں 7 اہلکار اور ایک افسر شامل تھا۔ امریکی حکام کے مطابق تمام زخمی اہلکار حملے کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آگئے۔امریکی حکام نے بتایا کہ یہ میرینز ایک بٹالین کا حصہ تھے، تاہم جس بحری جہاز کو میزائل کا نشانہ بنایا گیا وہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز نہیں تھا۔حکام نے جہاز کی قسم یا دیگر تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے اسے صرف ایک بحری جہاز قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت حملے اور میرینز کے زخمی ہونے کی معلومات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی تھیں۔ بعد ازاں زخمی اہلکاروں کے نام امریکی فوج کے سرکاری ریکارڈ میں شامل کیے گئے، جس کے بعد واقعے کی تفصیلات منظرعام پر آئیں۔آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران اہم بحری اور فوجی محاذ بن چکی ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران اس علاقے میں بحری جہازوں اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔