سان فرانسسکو (ویب ڈیسک) ناسا کے خلائی مشن نے چاند پر ایک غیر معمولی اور وسیع گڑھا دریافت کیا ہے جو روم کے کولوزیم سے بھی بڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گڑھا تقریباً دو سال قبل ایک طاقتور خلائی تصادم کے نتیجے میں بنا، تاہم اس وقت اس واقعے کو براہ راست ریکارڈ نہیں کیا جاسکا۔امریکی نیوز ایجنسی کے مطابق گڑھے کی چوڑائی تقریباً 728 فٹ جبکہ گہرائی 141 فٹ ہے اور اسے حالیہ دور میں نظام شمسی میں بننے والا سب سے بڑا گڑھا قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا بڑا تصادم اوسطاً ہر 132 سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے، جس کے باعث یہ دریافت خاص اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ناسا چاند پر خلابازوں کیلئے نیا اڈہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ناسا کے لونر ریکانائسنس آربیٹر نے مئی 2024 میں چاند کے قریب والے حصے پر اس گڑھے کا مشاہدہ کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی شہابِ ثاقب یا دمدار ستارے کے ٹکڑے کے چاند سے ٹکرانے کے نتیجے میں وجود میں آیا، جبکہ زمین یا خلا میں موجود دوربینیں اس تصادم کو براہ راست دیکھنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ابتدائی تصاویر اگست 2025 تک دستیاب ڈیٹا میں چھپی رہیں، بعد ازاں مزید تفصیلی تصاویر حاصل کی گئیں اور رواں سال کے آغاز میں اس دریافت کی تصدیق ہوئی۔ گڑھے کا نام سابق ماہر فلکیات تھامس میگچن کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ تقریباً ایک دہائی قبل دریافت ہونے والے سابق ریکارڈ ہولڈر گڑھے سے تین گنا بڑا ہے۔اس تصادم سے چاند کی سطح تقریباً 100 کلومیٹر کے علاقے تک متاثر ہوئی جبکہ مٹی اور چٹانیں توقع سے زیادہ فاصلے اور زاویے پر اچھلیں۔ ایک اور تحقیق میں گڑھے کے گرد تقریباً 7 کلومیٹر چوڑا سرد علاقہ بھی دریافت ہوا، جسے ماہرین سطحی مٹی کے ڈھیلا ہونے کی علامت قرار دیتے ہیں اور اس عمل کو باغبانی میں زمین کو کھود کر الٹنے پلٹنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔