کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) امریکی جامعہ کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے محققین کی مشترکہ قیادت میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے پیرووسکائٹ سولر سیلز کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانے کا نیا طریقہ تیار کرلیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی شمسی توانائی کے حصول کے لیے ایک امید افزا متبادل سمجھی جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق سائنس دانوں نے مواد کے کرسٹل بننے کے عمل کے دوران عارضی طور پر مائع پیدا کرنے کی تکنیک استعمال کی، جس کی مدد سے بڑے، یکساں اور کم نقائص والے پیرووسکائٹ کرسٹل تیار کرنا ممکن ہوا۔اس مواد سے تیار کردہ سولر سیلز اور روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈز (ایل ای ڈیز) کی کارکردگی تقریباً 24 سے 26 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو پیرووسکائٹ پر مبنی آلات کے لیے ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔تجربات کے دوران ان سولر سیلز کو مصنوعی سورج کی روشنی میں مسلسل آٹھ ہفتوں تک چلایا گیا، جس کے بعد بھی انہوں نے اپنی ابتدائی کارکردگی کا بیشتر حصہ برقرار رکھا۔پیرووسکائٹ ایک ایسا مواد ہے جس کی مدد سے کم لاگت میں مؤثر سولر سیلز تیار کیے جاسکتے ہیں۔ روایتی سلیکون سولر سیلز کے برعکس اسے محلول کی شکل میں تیار کرکے سطح پر باریک تہوں کی صورت میں لگایا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ کار سے سولر سیلز کی تیاری آسان ہونے اور توانائی کی کھپت کم کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔سائنس دانوں کی یہ تحقیق سائنسی جریدے ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔
سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی