کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) چین کے شمال مشرقی علاقے سے محققین نے لمبے اور غیرمعمولی پنجوں والے ڈائنوسار کی نئی نسل دریافت کرلی۔محققین کے مطابق دریافت ہونے والا ڈائنوسار کیراسارس چینگلینسِس دو ٹانگوں پر چلنے والے تھریزینوسارس گروہ سے تعلق رکھتا تھا، جس کے ہاتھوں پر بڑے اور نمایاں پنجے موجود تھے۔ ماہرین نے اسے اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ڈائنوسار قرار دیا ہے۔یہ فوسل مغربی لیاؤننگ کے جیہول حیاتیاتی خطے کی چٹانی تہہ سے ملا، جس میں تقریباً مکمل کھوپڑی بھی محفوظ تھی۔ یہ فوسل تشکیل تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ سے 12 کروڑ 10 لاکھ سال پرانی ہے اور یہاں پروں والے ڈائنوسار سمیت کئی اقسام کے فوسلز دریافت ہوچکے ہیں۔دریافت شدہ ڈائنوسار مکمل بالغ نہیں تھا اور سر سے دم تک اس کی لمبائی تقریباً 3.6 میٹر تھی۔ فوسل میں ٹانگوں کی ہڈیاں موجود نہ ہونے کے باعث اس کا وزن براہِ راست معلوم نہیں کیا جاسکا، تاہم قریبی رشتہ دار انواع سے موازنے کی بنیاد پر وزن 117 سے 274 کلوگرام تک ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔محققین کے مطابق مکمل بالغ ہونے پر اس نسل کا وزن اس سے کہیں زیادہ ہوسکتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کے دانت نسبتاً چھوٹے اور انتہائی قریب قریب تھے، جبکہ نچلے جبڑے میں 45 سے زیادہ دانت موجود تھے۔تھریزینوسارس گروہ کے ڈائنوسارز کی دیگر نمایاں خصوصیات میں چھوٹے سر، لمبی گردن، پتوں کی شکل کے دانت اور اگلی ٹانگوں پر بڑے تیز پنجے شامل تھے۔