اسلام آباد(پاکستان خبر) وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے انتظام اور تحائف سے متعلق نئے قواعد نافذ کردیے، کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ انتظام و ضوابط قواعد 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم اور صدر مملکت کے علاوہ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے تحائف وصول کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی، جبکہ توشہ خانہ میں موجود اور نئے موصول ہونے والے تحائف کی کھلی عوامی نیلامی ہوگی۔نیلامی سے حاصل رقم پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی، جبکہ ہر مالی سال توشہ خانہ میں موصول ہونے والے تمام تحائف کا آزادانہ آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔ ثقافتی، تاریخی اور سفارتی حساسیت رکھنے والے تحائف نیلامی سے مستثنیٰ ہوں گے۔قواعد کے تحت نیلامی سال میں ترجیحاً 2 مرتبہ اور کم از کم ایک بار کرانا لازم ہوگا۔ سرکاری عہدیدار اور ان کے اہل خانہ نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جبکہ تحائف کے مکمل سیٹ کو الگ الگ فروخت نہیں کیا جائے گا۔ نیلامی کی براہ راست ذرائع ابلاغ کے ذریعے کوریج بھی ہوگی۔تحائف سے متعلق فیصلوں کے لیے سیکریٹری کابینہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے اضافی سیکریٹریز شامل ہوں گے۔ کمیٹی طے کرے گی کہ کون سا تحفہ نیلام ہوگا اور کس تحفے کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق سفارتی آداب کے باعث تحفہ لینا ناگزیر ہو تو اسے توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔ تحفہ ملنے کے 30 دن کے اندر جمع کرانا لازم ہوگا، جبکہ بیرون ملک دورے سے واپسی پر بھی 30 دن کی مہلت ہوگی۔ الگ جہاز سے آنے والے تحفے کو 60 دن کے اندر جمع کرانا ہوگا۔گریڈ ایک سے چار تک کے ملازمین نقد انعام اپنے پاس رکھ سکیں گے۔ مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے پر عدالت میں شکایت درج کرائی جائے گی۔ تحائف کی قیمت ایف بی آر اور نجی تخمینہ کار مقرر کریں گے، دونوں تخمینوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق کی صورت میں تیسرے تخمینہ کار کی رائے حتمی ہوگی، جبکہ حوالہ قیمت کے لیے مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لی جاسکے گی۔ہتھیاروں کی قیمت پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ مقرر کرے گی، جبکہ تحائف کی حفاظت گریڈ 20 کے افسر کے سپرد ہوگی۔ توشہ خانہ کے اسٹور روم میں نگرانی کے کیمرے اور مناسب تالہ بندی لازمی قرار دی گئی ہے۔تمام تحائف کا ریکارڈ اور تصاویر ویب پورٹل پر جاری کی جائیں گی، تاہم تحفہ دینے والی شخصیت اور ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔